بے رنگ اور بے نام
نہ دید ہے نہ سخن، اب نہ حرف ہے نہ پیام
کوئی بھی حیلہِ تسکین نہیں اور آس بہت ہے
امید یار، نظر کا مزاج، درد کا رنگ
تم آج کچھ بھی نہ پوچھو کہ دل اداس بہت ہے
!فیض نے کہا تھا بہت سال پہلے ۔۔۔۔
نہ دید ہے نہ سخن، اب نہ حرف ہے نہ پیام
کوئی بھی حیلہِ تسکین نہیں اور آس بہت ہے
امید یار، نظر کا مزاج، درد کا رنگ
تم آج کچھ بھی نہ پوچھو کہ دل اداس بہت ہے
!فیض نے کہا تھا بہت سال پہلے ۔۔۔۔
this is wat i say the exact language of my heart.
Bohat khoob kahaa tha!
shandaar!!
im just unable to resist myself to add it to my blog
go ahead umar :>