یہ سبھی نصیب کے کھیل ہیں

کسی ہاتھ میں تو گلاب ہوں
کوئی ہاتھ خالی ہو اس طرح
سبھی زخم زخم ہو انگلیاں
کسی سر پہ ہوں کئی سائباں
کسی سر پہ چھت بھی کوئی نہ ہو
کہیں پاؤں جلتے ہوں دھوپ میں
کوئی چھاؤں میں ہی چلے سدا
کہیں بارشوں کا وفور ہو
کہیں بوند پانی ملے نہیں

کوئی خاک پر ہو پڑا ہوا
تو کسی کے بخت میں تخت ہو

کوئی جیتتا ہی رہے سدا
کہیں ہار ہی ہو لکھی ہوئی

کوئی دور رَہ کے بھی پاس ہو
کوئی پاس ہو کے بھی دور ہو

کئی فاصلوں پہ رکا ہوا
کئی دوریوں پہ کھڑا ہوا

رہے راستوں کو تلاشتا کوئی عمر بھر
کہیں خود پکار لیں منزلیں
اُنہیں جو چلے ہوں تلاش میں

کوئی ہاتھ یوں ہی اٹھے رہیں
کہیں بِن دعا کے ملے کوئی

جسے میں نے مانگا تھا بار ہا
وہ ندیم مجھ سے بچھڑ گیا
میرا ہمسفر مجھے چھوڑ کر
کسی اور سمت چلا گیا
جسے ساتھ چلنا تھا عمر بھر
وہ تو چند قدم بھی نہ چل سکا

میری آنکھ میں وہ جو خواب تھے
وہی خواب میرے اجڑ گئے

میرے ہاتھ میں جو گلاب تھے
وہ گلاب سارے بکھر گئے
یہ سبھی نصیب کے کھیل ہیں
کہیں گل کِھلیں، کہیں خار ہوں

Sometimes Depression and stabs of sudden pain are inevitable.