! بھیگی یادیں
بھیگی بھیگی یادیں
بھیگی بھیگی یادیں
نہ میں جانوں
نہ تو جانے
کیسا ہے یہ عالم
کوئ نہ جانے!
پھر کیوں ہے یہ تنہائ
کیسی ہے یہ رسوائ
گم ہو گۓ ہم
کھو گۓ ہم
“لمحے …….!
آندھی ہو یا طوفان ہو
میرے من میں رہے تو سدا
کوئ اپنا ہو یا پرایا ہو
اسے ڈھونڈو میں کہاں
تو کیوں ہے یہ تنہائ
کیسی ہے یہ رسوائ
گم ہو گۓ ہم
کھو گۓ ہم”
!لمحے …وہ راتیں
کوئ نہ جانے
تھی کیسی باتیں
وہ… برساتیں
!!وہ بھیگی بھیگی یادیں
!!وہ بھیگی بھیگی یادیں
ساگر کی ان لہروں سے گہرا ہے میرا پیار
صحراؤں کی ہواؤں میں کیسے آۓ گی بہار
… پھر کیوں ہے یہ تنہائ
…کیسی ہے یہ رسوائ
گم ہو گۓ تم
کھو گۓ ہم
!لمحے …وہ راتیں
کوئ نہ جانے
تھی کیسی باتیں
وہ… برساتیں
!!وہ بھیگی بھیگی یادیں
!!وہ بھیگی بھیگی یادیں
وہ لمحے ، وہ راتیں
!کوئ نہ جانے
!!وہ بھیگی بھیگی یادیں
!!وہ بھیگی بھیگی یادیں
!!!وہ لمحے
(عاطف اسلم)








