مجھکو یقیں ہے
مجھکو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیں
جب میرے بچپن کے دن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیں
جب میرے بچپن کے دن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیں
ایک یہ دن جب اپنوں نے بھی ہم سے رشتہ توڑ لیا
ایک وہ دن جب پیڑ کی شاخیں بوجھ ہمارا سہتی تھیں
ایک وہ دن جب پیڑ کی شاخیں بوجھ ہمارا سہتی تھیں
ایک یہ دن جب لاکھرں غم اور کال پڑا ہے آنسوؤں کا
ایک وہ دن جب ذرا سی بات پہ ندیاں بہتی تھیں
ایک وہ دن جب ذرا سی بات پہ ندیاں بہتی تھیں
ایک یہ دن جب ساری سڑکیں روٹھی لگتی ہیں
ایک وہ دن جب آؤ کھیلیں ساری گلیاں کہتی تھیں
ایک وہ دن جب آؤ کھیلیں ساری گلیاں کہتی تھیں
ایک یہ دن جب جاگی راتیں دیواروں کو تکتی ہیں
ایک وہ دن شاخوں کی بھی پلکیں بوجھل رہتی تھیں
ایک وہ دن شاخوں کی بھی پلکیں بوجھل رہتی تھیں
ایک یہ دن جب ذہن میں ساری عیاری کی باتیں ہیں
ایک وہ دن جب دل میں ساری بھولی باتیں رہتی تھیں
ایک وہ دن جب دل میں ساری بھولی باتیں رہتی تھیں
ایک یہ گھر جس میں ساز و سامان رہتا ہے
ایک وہ گھر جس میں میری بوڑھی نانی رہتی تھیں
ایک وہ گھر جس میں میری بوڑھی نانی رہتی تھیں
(جاوید اختر)
March 15th, 2005 7:09 pm in
Personal









السلام علیکم اسما
منظر نامہ کی طرف سے آپ کو ایک میل کی تھی۔ آپ کا جواب نہیں آیا۔ کیا آپ کو میل ملی?
I’ve replied to you this morning