بھیگی یادیں – اا

عاطف اسلم کا یہ گانا مجھے کافی پسند ہے، اب گانا تھوڑے بہت ردو بدل کے بعد ہندی فلم زہر میں شامل کر لیا گیا ہے … اسکے پہلے والے بول یہاں ہیں۔

ہوووووووووووو ووووووووووو ہووووووووووو

!وہ لمحے … وہ باتیں
کوئ نہ جانے
یہ کیسی راتیں
… برساتیں ہوووو
!!وہ بھیگی بھیگی یادیں
!!وہ بھیگی بھیگی یادیں

نہ میں جانوں
نہ تو جانے
کیسا ہے یہ موسم
کوئ نہ جانے

کہیں سے یہ خزاں آئ
‏غموں کی دھوپ سنگ لائ
خفا ہوگۓ ہم ، جدا ہوگۓ ہم

!وہ لمحے … وہ باتیں
کوئ نہ جانے
یہ کیسی راتیں
… برساتیں ہوووو
!!وہ بھیگی بھیگی یادیں
!!وہ بھیگی بھیگی یادیں

ساگر کی گہرائ سے گہرا ہے اپنا پیار
صحراؤں کی ان ہواؤں میں کیسے آۓ گی بہار
کہاں سے یہ ہوا آئ
گھٹائیں خالی کیوں چھائیں
خفا ہوگۓ ہم ، جدا ہوگۓ ہم

!وہ لمحے … وہ باتیں
کوئ نہ جانے
یہ کیسی راتیں
… برساتیں ہوووو
!!وہ بھیگی بھیگی یادیں
!!وہ بھیگی بھیگی یادیں

ہوووووووو وووو و وووو … … … … !

والسلام

Leave a comment

Your comment